ہبلی:27/ستمبر (ایس اؤنیوز) ہبلی کے بھارت مل سرکل کے قریب آج بدھ کو عوام کو ایک عجیب وغریب منظر دیکھنے کو ملا جب ایک آفسر اور کچھ اہلکاروں نے سب کے سامنے ایک طالب العلم کی کھلے عام پیٹائی شروع کردی، اہلکاروں نے اُس وقت تک لڑکے کو پیٹا، جب تک کہ مقامی لوگوں نے بیچ بچائو کرتے ہوئے لڑکے کو اُن سے الگ نہیں کیا۔
بتایا گیا ہے کہ لڑکے نے ریاستی سرکاری بس وقت پر نہ چلنے کے لے کر ٹرانسپورٹ آفسر سے سوال کیا تھا، جس پر آفسر اور دیگر اہلکار آپے سے باہر ہوگئے
اطلاع کے مطابق طالب علم کو ہبلی سے مشری کوٹی نامی دیہات جانا تھا، جس کے لئے متعلم قریب ایک گھنٹے تک بس اسٹانڈ پر بس کا انتطار کرتا رہا، مگر جب بس نہیں پہنچی تو بیزار طالب علم نے گرنی چال سرکاری پرائمری اسکول کے صحن میں موجود عارضی بس اسٹانڈ کے کنٹرول سے سوال کیا کہ جناب ایک گھنٹے سے بس کا انتظار کررہاہوں آخر بس کب آئے گی ۔ تو کنڑولر نے سوال کو سنی ان سنی کردیا ۔ عملے کے رویہ سے غصے میں نوجوان طالب علم نے کنڑولر سےدوبارہ سوال کیا کہ محکمہ کی طرف سے طلبا کو پاس دیاگیا ہے تو بسوں کا وقت پر انتظام بھی ہو نا چاہئے۔ طالب علم کا اتنا ہی کہنا تھا کہ کنٹرولر مشتعل ہوگیا جس کے بعد موقع پر موجود عملے نے طالب علم کی خوب دھلائی شروع کردی۔ بتایا گیا ہے کہ حملے کی وجہ سے لڑکے کا خون بھی نکلا ہے۔ تھوڑی دیر میں ہی جائے واردات پر مقامی لوگ جمع ہو گئے اور لڑکے کو اُن سے الگ کرتے ہوئے اُسے وہاں سے نکل جانے میں تعاون کیا۔ البتہ لڑکے کو سرعام پیٹنے کے دوران کسی نے اس کی وڈیو بنادی اور سوشیل میڈیا میں پوسٹ کردیا۔
.png)